گوجر خان میں اُردو غزل کی روایت
گوجر خان میں اُردوشاعری کے رواج سے قبل چند ایک فارسی اور پنجابی زبانوں کے قدیم شعرا کے نام ملتے ہیں۔فارسی شعرا میں دس ویں اور گیارہ ویں صدی ہجری کے شیخ قطب الدین کا تعلق جلہاری بھائی خان سے تھا۔چند بندوں پر مشتمل اُن کا ایک خمسہ اُن کے اخلاف میں عبداللہ سہام نے اپنی تصنیف: اَسرار المحبت (سالِ تصنیف: ۱۱۶۰ھ)میں نقل کیا ہے ۔
گیارہ ویں اور بار ہویں صدی ہجری کے چند اور فارسی و پنجابی شعرا میں میاں محمد برکات قریشی(جلہاری بھائی خان)، شیخ عاشق محمد( جلہاری بھائی خان)، شاہ چراغ مشہدی ( سید کسراں ،مدفون: راول پنڈی) ، شاہ محمد چراغ گیلانی (کانیٹ تاج خان ، مدفون: چوہان سیداں/ چکوال) ، رائے زادہ دونی چند(م: ۱۱۵۶ھ ، گلیانہ)، عبداللہ سہام ( جلہاری بھائی خان)، رائے زادہ برج ناتھ( گلیانہ) اور رائے زادہ بودھا مل( م: ۱۸۵۵سمت،کانیٹ تاج خان) کے نمونہ ہائے کلام دست یاب ہیں۔
عبداللہ سہام(۱۰۸۹- ۱۱۷۰ھ) گوجر خان کے پہلے اُردو شاعر ہیں۔اُردو کے علاوہ فارسی اور پنجابی میں بھی اُن کا کلام محفوظ ہے۔ اُن کا خاصا فارسی کلام اُن کی تصنیف: اَسرار المحبت میں نقل ہوا ہے اور مذکورہ بالا تصنیف ہی میں ایک بیت اُن کی ایک سی حرفی ہیر رانجھا سے بھی درج کیا گیا ہے۔ اُن کی اُردو مثنوی: گلزارِ محبت کے اب تک تین نسخے دریافت ہوئے ہیں۔یہ مثنوی اُنھوں نے ۱۶۱۱ھ میں مکمل کی تھی۔ راقم الحروف نے ہر سہ نسخوں کے تقابل کے بعد اِس کا تحقیقی متن مدون کر لیا ہے جو اِسی سال شایع ہو جائے گا۔
تیرہ ویں صدی ہجری میں گلیانہ کے ایک اور مورخ رائے زادہ رتن چند ولد سلامت رائے کا فارسی، پنجابی اور اُردو کلام ملتا ہے۔
سید محمد شاہ مشہدی ملقب بہ مولوی کا تعلق موضع سید سے تھا اور وہ فارسی زبان کے قادر الکلام شاعر تھے۔ اُنھوں ۲۴۳۰ اشعار پر مشتمل نے اپنے خانوادے کا منظوم فارسی: نسب نامہ ساداتِ مشہدی کہا تھا ،جس کے قلمینسخے دست یاب ہیں۔
موضع لودے کے قاضی فضل الدین علوی نقشبندی اور قاضی علم الدین علوی نقشبندی دونوں فارسی اور پنجابی کے شعرا تھے۔ اُن کے اخلاف میں مولانا محمد گوہر علی علوی، مولانا محمد عصام الحق علوی اور قاضی ارشاد الٰہی متخلص بہ فیضی بھی عربی اور فارسی زبانوں میں شعر کہتے تھے۔شاہ محمد وجیہ السیما عرفانی(م:۲۲ فروری ۱۹۹۱ء) ، جن کا مزار سندر لاہور میں ہے، مولانا محمد گوہر علی علوی کے بھتیجے اور شاگردتھے۔ وہ موضع لودے ہی میں پیدا ہوئے تھے، اُن کی غزلیات کے دو مجموعے: حرفِ جمال اور نوائے سروششایع ہو چکے ہیں۔
قیامِ پاکستان سے قبل یہاں کے غیرمسلم شعرا میں موضع دیوی کے ڈاکٹر موہن سنگھ دیوانہ اور موضع سید کے سنت درشن سنگھ (۱۹۲۱- ۱۹۸۹ء)کے نام ملتے ہیں۔ دونوں حضرات قیام پاکستان کے وقت ہندستان ہجرت کرگئے تھے۔ڈاکٹر دیوانہ کا مجموعہ :کیفیات اورسنت درشن سنگھ کاـ: جادئہ نور، طبع ہو چکے ہیں۔یہاں ضمناًیہ بھی بیان کرتا چلوں، معروف نو مسلم شاعر چودھری دلو رام کوثری =چودھری کوثر علی(م:۲۸ دسمبر ۱۹۳۱ء) کچھ عرصہ موضع سید میں مقیم رہے۔اِس حوالے سے موضع سید ہی کے شاعر اور محقق غلام حسن کسریٰ منہاس (م:۲۹ نومبر ۱۹۹۵ء)،راوی ہیں:
’’ اُردو ادب کے مشہور ادیب محقق اور تاریخ گو جناب غلام کسریٰ منہاس مرحوم بیان کرتے ہیں کہ کوثری اُن کے وطن سید کسراں (ضلع راول پنڈی) میں اُن کے والد غلام نبی منہاس کے یہاں قیام پذیر رہتے تھے اور اُس زمانے میں اُنھوں نے روضۃ الشہدا کے فارسی متن کی تلخیص کرکے جو نسخہ تیار کیا تھاوہ مدتوں اُن کے قصبے میں مجالسِ عزا میں پڑھا جاتا رہا ہے۔‘‘
قیامِ پاکستان سے قبل گوجر خان میں اُردو غزل گوئی کی روایت کے حوالے سے بہت کم لوازمہ میسر ہے۔ لے دے کے محمد فاضل غمناک (م: ۱۹۴۰ء)کا ایک نام ملتا ہے جن کا غیر مطبوعہ کلام ایم فل کے لیے مرزا تجمل حسین جرال ( وفاقی اُردو یونی ورسٹی اسلام آباد) اور ڈاکٹر محمد اکرام قریشی (علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی اسلام آباد ) نے مرتب کیا۔ ڈاکٹر اکرام کا مرتبہ دیوان نوابی گرافکس داہود/ گجرات ( بھارت) سے ۲۰۲۱ء میںشایع ہو چُکا ہے۔ یہاں اِس امر کی نشان دہی البتہ لازم ہے کہ غمناک اور اُن کے کلام کی دریافت کاسہرا نوجوان محقق، شاعر اور صحافی فیصل عرفان کے سر جاتا ہے،سب سے پہلے اُنھوں ہی نے مذکورہ شاعر کے تعارف و انتخابِ کلام پہ اپنا مضمون نوائے وقت کے سنڈے میگزین میں شایع کرایا تھا۔
[۲]
قیام ِ پاکستان کے بعدابتدائی عشروں میں گوجر خان میں اُردو غزل کیحوالے سے اختر امام رضوی، خواجہ یعقوب شاکر، حسن خان چوہان(ڈھوک چوہان)، صاحبزادہ ڈاکٹر محمد حسین انصاری للہی (گوجر خان شہر) ، حاجی عزت شاہ وارثی (چھپر) ، زمان مہدی قاصر( موہڑہ دھمیال) اورعلامہ غلام مصطفی رعنا رام پوری( گوجر خان شہر) کے نام ملتے ہیں۔
صاحبزادہ ڈاکٹر محمد حسین انصاری للہی کے کلام کی دو بیاضیں اُن کے اخلاف کے ہاں محفوظ ہیں،جب کہ حاجی عزت شاہ وارثی کے کلام کا انتخاب: مشتے نمونے از خروارے، کے نام سے شایع ہوا تھا۔علامہ رعنا رام پوری کے چند کلام، اُن کی تصنیف: کشف الاسرار و اعمال الابرار کے آخر میں شایع ہوئے تھے۔
حسن خان چوہان پولیس میں ملازم رہے اور اُن کا زیادہ تروقت اٹک میں گزرا ، یہی وجہ ہے نذر صابری مرحوم کے مرتبہ طرحی مشاعروں کے انتخاب اور تنقیدی نشستوں کی روادوں پر مشتمل رجسٹروں میں اُن کا ذکر ملتا ہے ، البتہ گوجر خان کے ادبی حلقے اُن کے نام اور کام سے ناآشنا ہی رہے۔ اُن کے کلاموں کی تین بیاضیںمخدومہ امیر جان لائبریری نڑالی میں محفوظ ہیں اور کلر سیداں کے نوجوان محقق: فاران نظامی، اُن کا کل کلام مرتب کر چکے ہیں جو ہنوز منتظرِ اشاعت ہے۔
عالمی شہرت یافتہ صوفی دانشور پروفیسر احمد رفیق اختر بھی غزل کہتے تھے اور اب بھی نجی نشستوں میں کبھی کبھاراوائل عمری کی غزلیات سناتے ہیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد شعرا کی دوسری کھیپ میں: عابد سعید عابد، رشید جاوید، سید نسیم تقی جعفری،مسعود جاوید،نذیر حسین بٹ، مزمل رشید شاد، رحمان حفیظ،اشفاق طاہر چوہان، احمد اصغر راجا،زوار فاطمی، جمال صدیقی، پیر بخش دہلوی، تراب نقوی،انصر امام بخاری، ثاقب امام رضوی، احمد ادریس،بشارت عاصم، احمد نسیم راجا، تجمل جرال، آلِ عمران ، شیراز اختر مغل، ماجد وفا عابدی، سید آلِ عمران، امتیاز گلیانوی،احمد عرفان اور راقم الحروف شامل ہیں۔
بعدکی کھیپ میںنوجوان شعرا کی طویل فہرست ہے، میں جسے اپنے حافظے کی بنیاد پر یہاں نقل کرتا ہوں، اگر کوئی نام رہ جائے تو اِ سے میری کم علمی یا نسیان کا نتیجہ سمجھنا چاہیے:پیر عتیق احمد چشتی،ڈاکٹراسد منیر،فیصل عرفان، نصیر احمد چشتی، سید جاوید بخاری، محراب خاور،حامد نواز شاہ سہروردی، علامہ محمدسجاد احمد ساجد،خیال نصیروی، رضاء اللہ سعدی، آفاق خالد، عاصم ندیم،ہمایوں مرزا،اعظم مہراز، ذوہیب کاظمی، اسد کاظمی، حمزہ رفعت،قاسم علی قاسم، آصف خاکی ،شاکر دولتالوی ، عدیل نازش، علی اصغر،احمد وقاص، نیاز علی، محمد فیاض شاہ،زبیر احمدوارثی، فہد سرشار کیانی، جنید غنی راجا، اویس راجا ، اذان علی، راشد محمود شام، ضیاء الحسن ضیا (مرحوم)،تمکین تابانی، ڈاکٹر محمد اکرام قریشی،غلام عباس، ندیم انجم کیانی،ندیم روشن،سجاد حیدر،اور محمد اخلاق شامل ہیں۔
[۳]
گوجر خان کی تنظیم :قندیلِ ادب کے اراکین شعرا کا پہلا انتخاب: سخن ستارے کے نام سے ۱۹۸۵ء میںشایع ہوا۔ کتاب کا سرورق ملک کے معروف مصور، خطاط اور نقاش صادقین(م: ۱۰ فروری ۱۹۸۷ء) نے بنایاتھا۔ اِس کے مرتب سیدنسیم تقی جعفری تھے۔اِس انتخاب میں خواجہ یعقوب شاکر،مسعود جاوید، عابد سعید عابد، رشید جاوید اورسید نسیم تقی جعفری کی غزلیات شامل ہیں۔
سخن ستارے کے بعد گوجر شہر کے باسی راجا اشفاق احمد چوہان (بعد ازاں: راجا اشفاق طاہر چوہان) کامجموعہ:شبنم رُوئے گلاب ۱۹۸۸ء میں شایع ہوا ، اُن کادوسرا مجموعہ : حرف حرف زندگی فروری ۱۹۹۱ء میں چھپا تھا۔
رشید جاوید شہر کے بزرگ اور انقلابی شاعر تھے، اُن کا ایک ہی مجموعۂ کلام : اُجالوں کے تعاقب میں( جنوری ۱۹۹۴ء) میں بہ اہتمام و انتخاب رحمان حفیظ ، حق برادرز لاہور سے شایع ہوا۔
احمد اصغر راجا کاتعلق مانکیالہ برہمناں سے ہے ،اُن کا پہلا مجموعہ:لوحِ سخن دسمبر۱۹۹۶ء میں شایع ہوا۔ بعد ازاں:خوشبو بھرا جنگل،(۱۹۹۸ء، ترتیب وانتخابِ رحمان حفیظ) پلکیں اور آواز، (۲۰۰۱ء)، دُھند میں سورج۔(۲۰۰۴ء)اورکربِ احساس (۲۰۰۵ء)۔دُھند میں سورج، در اصل بقیہ چار مجموعوں کے انتخاب پر مشتمل ہے اگرچہ اِس کا سالِ اشاعت ۲۰۰۴ء ہے اور چوتھے مجموعے: کربِ احساس پہ سالِ طباعت ۲۰۰۴ء درج ہے۔
ماجد وفا عابدی کا تعلق گلیانہ سے ہے، ۲۰۰۳ء میں اُن کا پہلا مجموعۂ کلام: تصویرِ آب، احباب ٍپبلی کیشنز سرگودھا سے چھپا۔
قاضی ظفر گلیانوی کا آبائی تعلق بھی گلیانہ سے تھا، البتہ وہ ایک عرصے سے گوجر خان میں مقیم تھے،اُن کا ایک ہی مجموعہ: سُوکھے پتے گلیوں میں،اپریل ۲۰۰۶ء میں شایع ہوا۔
اختر امام رضوی(م:۲۰ اکتوبر۲۰۱۸ء)کا تعلق گوجر خان شہرسے تھا۔وہ ایک بڑے شاعر، بڑے انسان اور ملک بھر میںکئی حوالوں سے گوجر خان کا تعارف و پہچان تھے۔ اُن کا ایک شعری مجموعہ: اے شام کی تنہائی، ۲۰۰۸ء میں شایع ہوا۔
احمد ادریس گوجر خان شہر سے ہیں ، اُن کا مجموعہ : ہرے لفظوں کی خوشبو، سنگِ میل پبلی کیشنز سے ۲۰۰۹ء میں شایع ہوا۔
خواجہ یعقوب شاکر کا تعلق گوجر خان شہر سے تھا اور اُن کا شمار بزرگ شعرا میں ہوتا تھا۔اُن کا مجموعہ: دُھوپ بارشوں کے بعد، ۲۰۰۹ء میں سنگِ میل پبلشرز لاہور سے شایع ہوا۔
سید نسیم تقی جعفری بھی گوجر خان شہرسے ہیں ، اُن کا پہلا مجموعۂ کلام: چمن پھولوں سے خالی ہو گیا ہے،۲۰۱۰ء میں شایع ہوا۔
صوفی محمد عارف ادیب کیانی کا تعلق کرنالی سے تھا، وہ اُستادشاعر تھے اور علامہ ذوقی مظفر نگری کے شاگرد تھے۔ زندگی کے آخری برسوں میں اُنھوںنے خودکو محض پوٹھوہاری شاعری کے لیے وقف کرلیا تھا۔ اُن کی وفات کے بعد اُن کے شاگرد زاہد کلیم(مظفر آباد) نے : کیف و کرب ، کے نام سے اُن کا کلام۲۰ نومبر ۲۰۱۳ء کو نیلم پبلی کیشنز مظفر آباد سے شایع کیا۔
نظام الدین نظامی(م: ۱۵ جنوری ۲۰۱۳ء) پنجگراں خرد کے بزرگ شاعر تھے، اُن کی وفات کے بعد اُن کے اُردو کلام کا انتخاب : فغانِ نظامی کے نام سے ۲۰۱۴ء میں طبع ہوا۔
جواں مرگ شاعرسید آلِ عمران کی غزلیات کا مجموعہ: کوئی عکس تھا کوئی خواب تھا،اُن کی حیات ہی میں طبع ہوا تھا، بعد ازاں اُن کے مجموعے سے ایک انتخاب: موسموں میں ڈھونڈ مجھے، کے عنوان سے شایع ہوا تھا۔
شکور احسن کا تعلق گوجر خان شہر سے متصل ایک چھوٹے سے گانْو پنڈوڑہ سے ہے۔اُن کا پہلا شعری مجموعہ :آنکھیں پڑھ لیں، جون ۲۰۱۶ء شایع ہوا۔
انصر امام بخاری(م:۷ اپریل ۲۰۱۷ء) بھی شہر سے تھے ۔اُن کا مجموعۂ کلام : رات دِیا اور میں، سائل نظامی کے اہتمام و ترتیب سے مارچ ۲۰۱۸ء میںشایع ہوا۔
سائل نظامی ، گوجر خان شہر کے نوجوان شاعر ہیں اور اِ ن دنوں بہ سلسلہ روزگار ملائیشیا میں مقیم ہیں۔ اُن کا پہلا مجموعۂ غزلیات: چراغ درونِ در، نومبر۲۰۱۹ء میں چھپا تھا۔
اکرام رشید قریشی کا تعلق دولتالہ سے ہے اورپاکستان نیوی کی طرف سے اِن دنوں سعودی عرب میں مقیم ہیں، اُن کا مجموعہ: خزاں کی شام، رنگِ ادب کراچی سے مئی۲۰۲۰ء میں شایع ہوا۔
اِسی طرح درج ذیل شعرائے کرام کے مجموعے بھی شایع ہو چکے ہیں: عابد معروف مغل: اِس شہرِ بے اماں،ایک تصویر ہے محبت کی، صدیق وارثی: ہمنوا، ستارہ بولتا ہے،محمد یوسف قمر: اجنبی دوست ہوئے،فیض عالم خان فیض چنگوی:تقدیسِ افکار، حفیظ اخترراجا: زرناب،اقبال طارق: تمھارے قرب کا موسم،آنکھوں میں شام ، بِن تمھارے اُداس کوئی نہیں، محمداقبال بھٹی: ماں کے اندر ایک سمندر،جہانگیر اشرف: ہوئے خواب سب سراب ، موسم بدلے گا،اخلاق حسین ساقی: ساحل ہے لہو لہو، سعید راجا: اُس کی آنکھیں بتا سکتی ہیں، رقصِ ہوا ،جمیل حیدر عقیل: نقوسِ غم،شاخِ مرجان ، چراغِ حجرئہ شب،غلام رضا شاکر: طلوع،علی عمران کاظمی: روداد،ڈاکٹر احمد فاروق:آدھی بارش،مسعود سلیم زاہد: آہستہ آہستہ، محبت درد ہے، قاضی شفیق الرحمنـ:نوائے عارف،تابندہ مسعود: سلگتا دشت،محمد فہیم: سلگتے خواب، اجنبی شام، عکسِ جاناں، وعدہ رہا، نامکمل)،قاضی عنایت الرحمن: ردائے کمال اورنور الحق راہی: میں نے سوچا ہے، مجھے سوچنے دو،یٰسین بھٹی: پھول چنتے ہیں۔
رحمان حفیظ اگرچہ اسلام آباد میں مقیم ہیں مگر اُن کا آبائی تعلق گوجر خان سے ہے۔وہ ہمارا نہایت اہم ادبی اثاثہ اور فخر ہیں، اُن کا مجموعۂ کلام: زنبیل، زیرِ طبع ہے، اُمید ہے اگلے چند ماہ میں شایع ہو جائے گا۔
دولتالہ میں مقیم اختر دولتالوی مزاحمتی شاعری کے حوالے سے اہم شاعر ہیں، اُنھوں نے زندگی کا زیادہ حصہ جھنگ میں گزارا ۔و ہ اُردو، پنجابی اور ہریانوی زبانوں میں شعر کہتے ہیں ۔ ہر سہ زبانوں میں اُن کے کلیات برادرم فیصل شہزاد (دولتالہ)نے کمپوز کر لیے ہیں۔
[۴]
نذیر پارس دولتالوی کا تعلق دولتالہ سے تھا مگر وہ راول پنڈی میں مقیم تھے اور وہیں دفن ہوئے۔اُن کا کلام ہنوز غیر مطبوعہ ہے مگر اُن کے احوال و انتخابِ کلام پر فیصل عرفان کا مضمون شایع ہو چکا ہے۔
ولایت حسین حیدری کا آبائی تعلق بھی گوجر خان سے تھا مگر وہ بہ سلسلہ وکالت لاہور میں مقیم تھے وہیں دفن ہوئے۔ اُن کے دو مجموعے شایع ہو چکے ہیں۔
اُردو اور پوٹھوہاری زبانوں کے شاعراور براڈ کاسٹر عابد حسین جنجوعہ کی ولادت گوجر خان ہی کے ایک گانْوموہڑہ پیرو والاداخلی ڈریال میں ہوئی، بعد ازاں اُنھوں نے ڈھوک صابری پنڈی روڈ کلر سیداں میں رہایش اختیار کر لی۔ اُن کا اُردو مجموعہ زیرِ طبع ہے۔
معروف و مقبول شاعرحسن عباس رضاکاآبائی تعلق بھی گوجر خان ہے،اُن کی رہائش وارڈ نمبر ۲ عقب مسلم بوائز ہائی سکول گوجر خان میں تھی۔ اُن کے والدِ گرامی صوفی محمد زمان گوجر خان مسلم سکول میں اُستادرہے ہیں۔
حسین ثاقب کا تعلق کونتریلہ سے ہے۔ وہ اِن دنوں لاہور میں مقیم ہیں۔اُن کے د و مجموعے ، آخری آوارگی اور گلابی خطوں کے سرنامے ،شایع ہو چکے ہیں۔
پروفیسر کرم حیدری، قیامِ پاکستان سے قبل خالصہ سکول دولتالہ میں اور قیامِ پاکستان کے بعدسرور شہید کالج میں بہ طور اُستاد تعینات رہے۔
ماہنامہ نیرنگِ خیال کے مدیرسلطان رشک مرحوم نے فیصل عرفان کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ اوائل عمری میں کچھ عرصہ گوجر خان میں مقیم رہے۔
شریف کنجاہی، اُردو و پنجابی زبانوں کے شاعر نیز محقق و نقاد تھے۔ اُنھوں نے بھی کچھ عرصہ سرور شہید کالج میں پڑھایا اور گوجر خان میں قیام کے دوران ادبی حوالے سے بھی متحرک رہے۔
اسلام آباد میں مقیم معروف شاعر رفیق سندیلوی بھی ۸۷-۱۹۸۵ء سرور شہید کالج میں پڑھاتے رہے ہیں اور اُن کے گوجر خان میں قیام کے دوران ہی اُن کا معروف اور مقبول شعری مجموعہ : سبز آنکھوں میں تیر، ۱۹۸۶ء میں شایع ہوا تھا۔
زبیر شفیع غوری معروف محقق اور شاعر تھے۔ وہ کچھ عرصہ سرور شہید کالج گوجر خان میں لکچرر رہے، اُن کا ایک شعری مجموعہ چھپ چکا ہے۔
شفیق احمد ، دولتالہ کالج میں اُردو کے اُستاد رہے ہیں، اُن کا تعلق لاہور سے ہے اور اُن کے آٹھ کے قریب مجموعے شایع ہو چکے ہیں۔نعیم شاہد کا تعلق چکوال سے ہے، وہ ایک عرصہ سرور شہید کالج میں اُردو کے اُستاد رہے۔ اُن کی غزلیات کالج کے مجلے: کانسی ،میں شایع ہوئی تھیں۔
پروفیسر ڈاکٹر عبد الغنی ، بھون (کہوٹہ) میں مدفون ہیں۔ وہ اُردو، فارسی اور پنجابی کے اُستاد شاعر تھے، اُنھوں نے کوئی سال بھر دولتالہ کالج میں پڑھایا۔ اُن کی وفات کے بعد اُن کے کلام کا ایک انتخاب شایع ہو چکا ہے۔یہ بزرگ فنِ شاعری میں راقم کے اُستاد تھے۔
ذکاء اللہ شیخ اور اُن کی شریکِ حیات ہما سہروردی، اِن دنوں ساہیوال میں مقیم ہیں وہ ایک عرصہ دولتالہ میں مقیم رہے اور دولتالہ سے شایع ہونے ادبی مجلے : صبحِ بہاراں کے مدیر تھے۔ دونوں کا کلام صبحِ بہاراں میں گاہے گاہے شامل ہوتا رہا ہے۔
کرنل اسد علی فوجی فاؤنڈیشن کالج گوجر خان کے پرنسپل ہیں اور گزشتہ برس۹ نومبر ۲۰۲۴ء کو یومِ اقبال کی مناسبت سے اُنھوں نے ایک اچھے مشاعرے کا انعقاد اپنے کالج میں کیا تھا،وہ بھی اُردو غزل کہتے ہیں۔
[۵]
اب اِس حصے میں غزلیات کے چند اُن انتخابوں کا نام گنواتا ہوں ، جن میں گوجر خان کے شعرا کا کلام بھی شامل ہے:کاروانِ ادب(۱۹۸۹ء)،پہلی دُھوپ(۱۹۹۷ء) ،غزل آشنائی (نومبر ۲۰۰۵ء) ،غزل آفرینی (جولائی ۲۰۰۶ء)،تمھارے ساتھ چلنا ہے(ستمبر۲۰۰۸ء)،میرا بھی اک چاند، سدا ساتھ تمھارا(مارچ ۲۰۱۶ء)، چراغ ( اپریل ۲۰۱۹ء)۔
[۶]
خطۂ پوٹھوہار سے شایع ہونے والے کئی مجلات اور اخبارات ، جن میں گوجر خان کے شعرا کی غزلیات شایع ہوتی رہی ہیںکے معلوم نام ذیل میں درج کرتاہوں: تنویر( کلر سیداں)، نگارش( کلر سیداں)،ادبیات( اسلام آباد)،نیلاب ( راول پنڈی)،ماہنامہ جامِ صوفیاء( گوجر خان) ،مراسم ( گوجر خان)، عکاس( اسلام آباد)، عکاس انٹر نیشنل(اسلام آباد)،نیرنگِ خیال( راول پنڈی)، ماہنامہ صبحِ بہاراں دولتالہ) ، روز نامہ نوائے (راول پنڈی / اسلام آباد)، روز نامہ جنگ ( راول پنڈی)، روز نامہ اساس (راول پنڈی)، روز نامہ پاکستان (راول پنڈی)، پندرہ روزہ چشمِ وطن ( گوجر خان)، پندرہ روزہ صدائے پوٹھوہار (گوجر خان)،پندرہ روزہ دولتالہ ٹائمز( دولتالہ)، مستقبل ( گوجر خان)،کانسی( گوجر خان)، ادراک( گوجر خان)، فہم و ادراک (راول پنڈی) اور قندیلِ نو( نڑالی)۔
حسن نواز شاہ
۱۵ رمضان ۱۴۴۶ھ/۱۶ مارچ ۲۰۲۵ء، نڑالی/ گوجر خان
(حضرت دادی صاحب کی برسی کے دن)
